1. Skip to Menu
  2. Skip to Content
  3. Skip to Footer>


قرآن مجید حفظ کرانے کے لئے شعبہ قرآن مجید کی تعلیم کو چارمراحل میں تقسیم کیاگیا ہے

•    پہلا مرحلہ:    قاعدہ
•    دوسرا مرحلہ:    ناظرہ
•    تیسرا مرحلہ:    حفظ
•    چوتھا مرحلہ:    گردان


تعارف پہلا مرحلہ: قاعدہ

ادارہ معارف القرآن کا شعبہ قاعدہ منفرد نظام تعلیم کی وجہ سے کافی شہرت کا حامل ہے تقریباً تین ماہ کے عرصے  میں قاعدہ مکمل کرانے کی کوشش کی جاتی ہے اور وائٹ بورڈ پر اس کا خوب اجراء بھی کرایا جاتاہےجس کے بعد طلبہ میں یہ صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ روانی کے ساتھ قرآن پڑھ سکیں،بسااوقات طلبہ کی ادائیگی کمزور ہونے کے بناء پر قاعدہ میں ہی داخلہ دیاجاتا ہے،جوادائیگی اور تجوید کوبہتربنانے کے لئے نہایت مفیدومعاون ثابت ہوتا ہے۔
تعلیم کا دورانیہ : چھ ماہ
کورس: المعارف قاعدہ المعارف، اسلامیات ،المعارف خوشخطی، نماز کی عملی مشق
مطوبہ استعداد : حروف کی مکمل پہچان ،مفردات اور مرکبات کا جوڑنا اور رواں پڑھنا۔


تعارف دوسرا مرحلہِ ناظرہ

حفظ کرنے والے طالب علم کے لیے ناظرہ قرآن مجید سیکھنانہایت لازمی اور ضروری ہے ،ورنہ حفظ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ لہٰذا قاعدہ پڑھنے والے بچوں کو ناظرہ قرآن مجید سکھایا جاتا ہے۔

تعلیم کا دورانیہ  : چھ ماہ
کورس : ناظرہ قرآن مجید سےپانچ پارے آسان نماز
مطلوبہ استعداد: تجوید کے قواعد کی رعایت رکھتے ہوئے دیکھ کر مکمل قرآن مجید پڑھنے کی اہلیت


تعارف تیسرا مرحلہ  حفظ قرآن کریم

قرآن کریم حفظ کرنا انتہائی محنت طلب اور قابل توجہ عمل ہے اس سلسلے میں استاذ طالب علم سرپرست اور ادارہ چاروں عوامل کا کردار بہت اہم ہے۔ ان عوامل میں سے کسی ایک کی بھی کمزوری سے مطلوبہ نتائج کا حصول مشکل ہوجاتا ہے اور ذرا سی غفلت سے بہت سخت نقصان کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے۔
ادارہ نے بہترین نتائج کے حصول کے لئے بہترین تعلیمی اور انتظامی پروگرام مرتب کیا ہے جس کےذریعے ہرطالب علم کی بھرپور نگرانی کی جاتی ہےیومیہ ماہانہ سہ ماہی اور سالانہ رپورٹ تیار کی جاتی ہے، سبق کی رفتار اور مقدار پر مستقل توجہ دی جاتی ہے، منزل کی کیفیت اور اس کی پختگی کے لئے مستقل اقدامات کئے جاتے ہیں۔حفظ میں کمزوری سامنے آتےہی اسباب پرغوروخوص کرکے باہمی مشاورت اور مناسب حکمت عملی کے ذریعے اس کا سدباب کیا جاتا ہے۔

نمایاں خصوصیات شعبہ حفظ قرآن کریم

یومیہ کارکردگی رپورٹ: اس سے طالب علم کی صبح سے شام تک کی کارکردگی کا علم ہوتا ہے۔
نگران: اس سے ہر کلاس کے استاذ پر انتظامیہ کی توجہ رہتی ہے اور تدریسی عمل موثر طریقے سے انجام پاتا ہے۔
ماہانہ جائزہ: اس سے طالب علم کی منزل کی پختگی کا اندازہ کیا جاتا ہے۔
کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ: ہر طالب علم کا مکمل تعلیمی ریکارڈ مرتب کیا جاتا ہے جس سےوالدین کو بچوں کی کارکردگی سے مسلسل آگاہی رہتی ہے۔
سہ ماہی امتحان: اس سے طالب علم کی تین ماہ کے اسباق کی مقدار اور منزل کی مکمل کیفیت کا اندازہ کیاجاتا ہے۔
فوری آگاہی: سبق میں کمزوری پر والدین کو بذریعہ نوٹس فی الفور آگاہ کیا جاتا ہے۔
جماعت میں طلبہ کی مختصر تعداد: جس سے ہر طالب علم پر استاذ کی بھرپور توجہ برقرار رہتی ہے۔
باہمی مشاورت: ہرسہ ماہی امتحان کے بعد ناظم تعلیمات اساتذہ سے  طلبہ کی انفرادی کیفیت سے متعلق مشاورت کرکے لائحہ عمل طے کرتے ہیں۔


تعارف چوتھا مرحلہ : گردان

قرآن شریف حفظ کرنے کے بعد اس کی پختگی کے لئے قرآن مجید کا دور لازمی ہوتا ہے،اس عمل کو" گردان" کہاجاتا ہے۔ گردان کی اہمیت اورضرورت کے پیش نظر ادارے میں باقاعدہ ایک شعبہ قائم کیاگیا ہے۔ جس میں طلبہ کو آٹھ ماہ سے ایک سال کے عرصے تک قرآن مجید کی گردان کرائی جاتی ہے۔ دوران گردان تجوید اور لہجہ پربھی بھرپور توجہ دی جاتی ہے۔اس شعبہ کے طلبہ سالانہ امتحان دینی مدارس کے بورڈ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے تحت دیتے ہیں۔
مسابقہ حفظ قرآن کریم مع تجوید
اس شعبہ کے طلبہ ملکی سطح پر منعقد ہونے والے مسابقوں میں حصہ لیتے ہیں۔ اس کےلئے انہیں خاص طور پر تیاری کرائی جاتی ہے اور الحمدللہ ادارے کے طلبہ نے ان مقابلوں میں کئی اعزازات حاصل کئے ہیں۔

نمایاں خصوصیات شعبہ گردان

استعداد: گردان مکمل ہونے کے بعد طالب علم میں ایک ہی مجلس میں مکمل قرآن پاک سنانے کی استعداد پیدا کی جاتی ہے۔
خصوصی تیاری: قرآن کی آیات کے نمبر سے یاد کروانے کی خصوصی تیاری کرائی جاتی ہے۔ اس میں قرآن پاک کا الٹی ترتیب سے پڑھنا بھی شامل ہے۔
انعامات: طالب علم کو مکمل قرآن پاک بغیرغلطی بغیراٹکن سنانے کی صورت میں خصوصی انعام دیاجاتا ہے۔
غیر اعلانیہ جائزے: ہر طالب علم  کے گردان کیے ہوئے پاروں کا کسی بھی وقت جائزہ لیا جاسکتا ہے۔
ڈائری: ہرطالب علم کی صبح سے شام تک کی کارکردگی جاننے کے لیے ایک ڈائری کا اجراء کیا جاتا ہے۔
مسابقہ حفظ القرآن کریم: ہرماہ میں طلبہ کے درمیان حفظ کا مسابقہ منعقد کیاجاتا ہے۔
قراءۃ: تجوید اور لہجے پرخصوصی توجہ دی جاتی ہے جس کے لیے ہرطالب علم کودن میں پندرہ منٹ کا موقع دیاجاتا ہے۔
باہمی مشاورت: ہر سہ ماہی امتحان کے بعد ناظم تعلیمات ہراستاذ سے طالب علم کی انفرادی کیفیت کے بارے میں مشاورت کرتے ہیں۔

اسکالر شپ سسٹم

ادارہ معارف القرآن نے ذی استعداد اور بہتر صلاحیت کے حامل طلبہ کے اعزاز کے لیے مختلف اسکالر شپ پروگرامز رکھے ہیں، یہ اسکالر شپ علم دوست حضرات اور مختلف اداروں کے نام سے موسوم ہوتی ہےاور وہی اس کے لیے  تعاون کرتے ہیں، تفصیلات حسب ذیل ہیں

اسپانسر شپ سسٹم

ادارہ معارف القرآن میں تعلیم حاصل کرنے والے بہت سے طلبہ اپنے تعلیمی اخراجات خود برداشت نہیں کرسکتے ،اس سلسلے میں ادارہ اپنے معاونین ومخلصین کے تعاون اور عطیات  سے ایسے تمام طلبہ کو اسپانسر  شپ دیتاہے جس میں ان کی مکمل کفالت کی جاتی ہے