
ادارہ معارف القرآن بھی ملک عزیز پاکستان کے دیگر مدارس دینیہ کی طرح ایک منفرد دینی تعلیمی ادارہ ہے جہاں حفظ قرآن مجید درس نظامی اور علوم عصریہ کی اعلی،مستند اور معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔ ادارے نے اپنے نظام تعلیم کی تینوں جہتوں پر نہایت ہی جانفشانی، عرق ریزی اور اہل فن کی مشاورت سے کام کرتے ہوئے ہرہر شعبےمیں امتیازی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
ادارہ کے مہتمم حضرت مولانا عبدالوحید صاحب زیدمجدہ کے دل میں زمانہ طالب علمی ہی سے تڑپ تھی کہ شہری بچوں کو علم دین کی طرف راغب کرنے کی بھرپور کوشش کی جانی چاہیئے ،عام طور سے مدارس دینیہ میں ملک کے دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے رہائشی طلبہ کی تعداد زیادہ ہوتی ہے جب کہ اس کے مقابلے میں مقامی شہری طلبہ کی تعداد آٹے میں نمک کی برابر ہوتی ہے اور پھر ماحول کے فرق اور مدارس کے بارے میں منفی پروپیگنڈے کی وجہ سے اکثر شہری عوام اپنے بچوں کو مدارس میں تعلیم دینے سے کتراتے ہیں لہٰذا ضرورت اس امر کی تھی کہ ایک ایسا معیاری ادارہ قائم کیا جائے جہاں بچوں کو ایسا بہترین ماحول مہیا کیا جائے کہ عوام اپنے بچوں کو بلاجھجک قرآن مجید اور علوم دینیہ وعصریہ کی تعلیم کے لیے بھیج سکیں ۔
چنانچہ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد حضرت ایسے ادارے کے قیام کی محنت اور کوشش میں لگ گئے ،دوست ،احباب واکابر علماء سے مشورے کے بعد صرف دوسال کے قلیل عرصے میں سنہ ۱۴۱۲ھ بمطابق ۲۳/اپریل۱۹۹۲ء کو بے سروسامانی کے عالم میں توکلاً علی اللہ "ادارہ معارف القرآن"کی بنیاد رکھی۔
ادارے میں تعلیم کا افتتاح وکیل ختم نبوت،فقیہ امت حضرت مولانا محمدیوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ تعالٰی نے کیا۔ ابتداء میں تعلیم کا آغاز جامع مسجدآمنہ سے کیاگیا ،پھر جامع مسجد آمنہ کے بانی جناب مبین الحق صدیقی مرحوم کے صاحبزادگان نے مسجد کے ساتھ متصل پلاٹ مدرسہ کے لیے وقف کرنے کی سعادت حاصل کی ،اس پلاٹ پر تعمیر کا افتتاح شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب مدظلہ صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے اپنے دست مبارک سے ۳۱/دسمبر۱۹۹۲ء کو کیا۔
محسن مدارس حضرت مولانایوسف کشمیری صاحب مدظلہ مہتمم جامعہ امام ابوحنیفہ نے روزاول سے ہی بھرپورسرپرستی فرمائی ا،ٓپ مختلف اوقات میں ادارے میں تشریف لاتے رہےاورمفیدوقیمتی مشوروں سے مستفید فرماتے رہے۔ ادارہ کے قیام اور تعمیر کے سلسلےمیں ادارہ کی انتظامیہ خصوصاً جناب رفیق الدین خان صاحب،جناب یوسف افتخارصاحب اورجناب سیدمحمدابوافتخارصاحب نے انتہائی خلوص اور محنت سے بھرپور تعاون کیا۔




