1. Skip to Menu
  2. Skip to Content
  3. Skip to Footer>

ملکِ عزیز پاکستان میں علوم دینیہ کے ہزاروں چھوٹے بڑے مراکز شب و روز ملتِ اسلامیہ کی دینی راہنمائی اور علوم نبوت کی ترویج و اشاعت میں مصروف ہیں۔ یہ فیض ہے دارالعلوم دیوبند کے حضرت مولانا ،رشیداحمدگنگوہی رحمھم اللہ تعالٰی اور ان کے رفقاء کاجو انگریز کے خلاف میدان جہاد میں بنفس نفیس شریک رہے۔
انگریز نے ایسا نظام رائج کرنے کی ٹھانی تھی جو مسلمانوں کے دل پر مغربی افکارکاسکہ جمادےاور جس کے نتیجے میں ایسا طبقہ وجود میں لانا تھا جو رنگ ونسل کے اعتبارسے ہندوستانی اور مسلمان ہو مگر قلب ودماغ کے لحاظ سے مکمل انگریز ہو۔ایسے طوفانی اور ہمہ گیر فتنہ کے سامنے مضبوط بند باندھنے اور توانا حصار کھینچنےکے لئےان علمائے ربانیین نے "دارالعلوم دیوبند"کی بنیاد رکھی اور ایسے سرفروش علماء کی ایک بڑی جماعت تیارکی جو مسلمانوں کے ایمان واسلام اور علوم دین کے ہر ہر گوشہ کو وقت کی خطرناک آندھی اور طوفان سے بچاکر محفوظ کرتی رہی اور ان کی تعلیم وتبلیغ سے برصغیر کاچپہ چپہ سیراب ہوا۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمودالحسن رحمتہ اللہ کی قیادت میں انہی علماء کی بے مثال قربانیوں اورلازوال جدوجہد نے ہندوستان کو انگریز کی غلامی سے نجات دلانے میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔

 

ادارہ معارف القرآن کا قیام سنہ ١٩٩٢ء میں عمل میں آیا، شروع میں صرف درجہ حفظ کی ایک کلاس سے ادارے کی ابتدا کی گئی لیکن آہستہ آہستہ ادارے نے ترقی کی کئی منزلیں طے کیں، اپنے اغراض ومقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی کامیابیاں حاصل کیں، تعلیم کے مختلف شعبے قائم کیے، ذیل میں ادارے کی ترقی کے مراحل تاریخ وار  پیش کیے جارہے ہیں ملاحظہ فرمائیے:

 

ادارہ معارف القرآن بھی ملک عزیز پاکستان کے دیگر مدارس دینیہ کی طرح ایک منفرد ودینی تعلیمی ادارہ ہے جہاں حفظ قرآن مجید درس نظامی اور علوم عصریہ کی نہایت ہی شاندار اور معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔ ادارے نے اپنے نظام تعلیم کی تینوں جہتوں پر نہایت ہی جانفشانی عرق ریزی اور اہل فن کی مشاورت سے کام کرتے ہوئے ہرہر شعبےمیں امتیازی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

 

کسی بھی ادارے کے اغراض ومقاصد اس ادارے کی تعمیروترقی میں ہمیشہ بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور اپنے مقاصد کو پیش نظررکھتے ہوئے کام کرنا ہر ادارے کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہوتی ہے، چنانچہ ادارہ معارف القرآن نےاپنے اکابرسے مشاورت کے بعد اپنےاغراض ومقاصد میں حسب ذیل امور شامل کیے:
•    قرآن مجید حفظ وناظرہ کی مستند ،معیاری اور اعلی تعلیم کا انتظام۔
•    دیہات اور پسماندہ علاقوں میں قرآن کی تعلیم عام کرنے کے لیے مکاتب قرآنیہ کا قیام۔

 

ادارہ معارف القرآن کے تمام تعلیمی اور انتظامی امور مجلس مشاورت  میں پیش کرکے قابل عمل بنائےجاتے ہیں ،ادارہ کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ تمام اہم تعلیمی امور میں مکمل مشاورت کی جائے اور مجلس شوری کے اراکین کی رائے کی روشنی میں لائحہ عمل طے کیا جائے، مجلس مشاورت میں ادارے کے ہرشعبے کے مسئول اور ذمہ دار  شامل ہیں جن کی تفصیلات حسب ذیل ہیں:

اسکالر شپ سسٹم

ادارہ معارف القرآن نے ذی استعداد اور بہتر صلاحیت کے حامل طلبہ کے اعزاز کے لیے مختلف اسکالر شپ پروگرامز رکھے ہیں، یہ اسکالر شپ علم دوست حضرات اور مختلف اداروں کے نام سے موسوم ہوتی ہےاور وہی اس کے لیے  تعاون کرتے ہیں، تفصیلات حسب ذیل ہیں

اسپانسر شپ سسٹم

ادارہ معارف القرآن میں تعلیم حاصل کرنے والے بہت سے طلبہ اپنے تعلیمی اخراجات خود برداشت نہیں کرسکتے ،اس سلسلے میں ادارہ اپنے معاونین ومخلصین کے تعاون اور عطیات  سے ایسے تمام طلبہ کو اسپانسر  شپ دیتاہے جس میں ان کی مکمل کفالت کی جاتی ہے